حسین کون ہیں

کربلا

(سیدحسین مرتضیٰ کمیلؔ)

غریب وسادہ ورنگین ہے داستان حرم

نہایت اس کی حسین ابتدا ء ہے اسماعیل

علامہ اقبال

دنیاکے تمام انسان ایک ہی ماں باپ کے بیٹے ہیں ، یہ رنگ ونسل ،ملک، وطن، مذہب ومسلک اورقومیت وملت ہماری انسانیت میں شامل نہیں ہے ــــــــ تمام لوگ انسانیت اور انسان ہونے میں کوئی فرق نہیں رکھتے ـــــــ

اسی طرح ہماری رگوں میں دوڑنے والا خون بھی ایک ہے۔خون نہ ہندو ہے نہ مسلمان، نہ سکھ ہے نہ عیسائی ـــــــ اسپتا ل میں خون کے ضرورتمند مریض کو خون چڑھاتے وقت ڈاکٹر جب خون کا گروپ مریض کے گروپ سے ملاتاہے تو وہ اس وقت یہ نہیں دیکھتا ہے یہ خون کس کا ہے ـــــــ ہندو یا مسلمان، کیونکہ خون ،خون ہے خون نہ ہندو ہوتاہے نہ مسلم، نہ سکھ نہ عیسائی ــــــــ

میرے دوستو! اگر زمین کے کسی حصے پر کسی کا بھی خون بہتا ہے چاہے وہ ہندوکاہو یامسلم کاتووہ ایک انسان کا خون ہے وہ ہمارا خون ہے۔ اور اگر کسی انسان پر ظلم وستم ہوتاہے تو وہ انسانیت پر ظلم ہے وہ ہم انسانوں پر ظلم ہے ۔

میرے بھائیو اور بہنو!ہم ہرسال محرم اورکربلا کی یاد مناتے ہیں ،مجلسیں کرتے ہیں ،جلوس نکالتے ہیں یہ ظلم وستم کے خلاف ہمارا احتجاج ہے مگر پر امن احتجاج یہ کوئی دھارمک پرمپرا نہیں ،یہ مذہبی رسم ورواج نہیںبلکہ یہ صرف ایک احتجاج اور بس۔

ــــــ زمین پر بہنے والا خون کسی کا ہو، وہ ایک انسان کا خون ہے اور کسی پر بھی ظلم ہو وہ انسانیت پر ظلم ہے اور جب تک بے گناہوں کا خون بہتا رہے گا اور انسانوں پر ظلم ہوتا رہے گا ہمارا یہ احتجاج جاری رہے گا ـــــــ

یہ درس اور سبق ہمیں حضرت محمد مصطفیؐ کے نواسے حضرت امام حسین بن علی علیہ السلا م نے دیا ہے ان کی یہ تعلیم ہے کہ نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ کسی انسان پر ہوتے ظلم کو دیکھ کر خاموش رہو ـــــــ

آج سے تیرہ سو چھہتر (۱۳۷۶)سال پہلے جب عرب کی سرزمین پر ـــــــ یزید بن معاویہ بن ابو سفیان کی وہ حکومت جس کی سلطنت روم وایران ،عراق ویمن تک پھیلی ہوئی تھی اور اس حکومت میں زمین پر انسانوں کا خون بہایاجا رہا تھا، انسانوں پر ظلم وستم کا بازار گرم تھا۔ نہ لوگوں کی ناموس محفوظ تھیں نہ عزت وآبرو ’’ہیومن رائٹس‘‘ اور ویلوز کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں ،شریف آدمی کا زندہ رہنا دوبھر ہو گیا تھا اور قریب تھا کی انسانی رشتے ،آپسی محبت وودوستی ،بھائی چارگی ،شرافت انسانی اور خود انسانیت ظلم وستم کے سیلاب میں بہہ کر ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے اور انسان جانور بن کر ایک دوسرے کا گلا کانٹنے لگیں۔ نہ آپسی رشتوں کا خیال رہ جائے نہ ایک دوسرے کے حقوق کا پاس ولحاظ ـــــــاوریزیدکی اس حکومت میں یہ سب کا م اس کے حکم پربڑی تیزی سے کیا جا رہا تھا ۔

٭٭٭٭

معاویہ کا بیٹا یزید جو ایک ؍۳۲ سالہ من چلا ،عیاش اور ظالم بادشاہ تھا اسے اس مقام تک جسے ’’مقام محمدی‘‘ کہا جاتا ہے پہونچانے میںصرف اس کے باپ معاویہ بن ابو سفیان کا ہاتھ نہیں تھا بلکہ پیغمبر اکرمؐ کے بعد مسلمانوں کی راہنمائی کا جو نظام اور سسٹم تیار کیا گیا تھا یزید اسی نظام او رسسٹم کی کوکھ سے پیدا ہوا تھا ـــــــ

اب اسلام جس نے عرب کے ظالمانہ وجاہلانہ ماحول میں عدل وانصاف علم وعقل اور امن کاسب سے پہلے پیغام دیا اور دشمنی وعداوت کی تاریکی میں محبت وآشتی کی شمعیں روشن کی تھیں۔ آج اسی اسلام کے نام پر ظلم وستم کا بازار گرم اور انسانیت لہو لہان تھی۔

اب ایسی صورت میں محمد مصطفیؐ کے نواسے علی بن ابیطالب کے بیٹے حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید کے ظلم وستم کے خلاف انسانیت کی نجات کے لئے آواز اٹھائی آپ نے فرمایا اگر یزید اسی طرح لوگوں کا حاکم بنا رہا تو انسانیت ختم ہو جائے گی انسانی رشتے مٹ جائیں گے ،ظلم وستم انسانی سماج کو جنگل راج میں تبدیل کر دے گا اور کمزور انسانوں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔اور یزید اپنے ان ظالمانہ کام کے لئے فرزند رسول امام حسین ؑ کی بھی تائید چاہتا تھا لہذا اس نے بیعت کا تقاضا کیا تو آپؑ نے فرمایا مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ۔امامؑ نے انکار بیعت کے ساتھ یہ پیغام بھی دے دیا کہ حسینی کبھی یزیدی کی بیعت نہیں کر سکتا ۔لیکن یزید کو روکنا ضروری تھا۔

اور یزید کو روکنے کے لئے اسے تخت حکومت سے اتارنا ،ممکن نہیں تھا۔ اس کے لئے ایک عظیم فوج ولشکر اور زبردست طاقت کی ضرورت تھی جبکہ یزید کے پاس لاکھوں کا لشکر تھا کربلا میں امام حسینؑ کے مقابل صرف ایک شہر کوفہ سے ۳۰؍ہزار کا لشکر آگیا تھاـــــــــــ

لہٰذا امام حسین علیہ السلامـــــــــ یزید کو اس کے تخت حکومت سے نہیں بلکہ اس مقام محمدی سے ہٹاناچاہتے تھے جہاں کھڑے ہوکر وہ ہر غلط بات کو صحیح اور حق کو باطل اور باطل کو حق قرار دے رہا تھا اور اس وقت کے لوگ اسے محمد مصطفی کا جانشین اور خلیفہ مان کر اس کی ہر بات کو مان رہے تھیـــــــــــ یزید کو مقام محمدی سے ہٹانے کے لئے نہ تلواروں کی ضرورت تھی نہ فوج ولشکر کی بلکہ اس کے لئے قربانیوں کی ضرورت تھی، شہادت کی ضرورت تھی بلند اور پاک وپاکیزہ کردار وںکی ضرورت تھی، علم ا ورآگہی کی ضرورت تھی۔

ان نوجوانوں کی ضرورت تھی جو آسانی سے اپنے سروسینہ پر خنجر وبرچھی کھاسکیں۔ ان بوڑھوں کی ضرورت تھی جن کے مقدس گلے کٹنے کے لئے تیار ہوں، ان بچوں کی ضرورت تھی جو معرفت خدا وندی میں کسی سے پیچھے نہ ہوں جن کے نزدیک راہ حق میں موت شہدسے زیادہ شریں ہو۔

اور ان عورتوں کی ضرورت تھی جو ناموس اسلام کے لئے اپنی چادریں قربان کردیں اور انسانیت اور حق کی آزادی کے لئے اپنے بازوئوں میں رسیاں بندھوالیں۔لہٰذا فرزند رسول حضرت امام حسینؑ نے اس وقت کے سب سے زیادہ پاک و پاکیزہ کردار اور طیب وطاہر لوگوں کی ایک چھوٹی سی جماعت تیاری کی جو تھے بہتر، مگر کردار سب کا ایک تھا۔ سب علم ویقین ،اخلاص ومحبت کی منزل پر تھے، سب نے مقصد حسین کو سمجھ لیا تھا لہٰذا ا ک انجمن تھی اور بہتر حسین تھے ۔

امام حسین علیہ السلام نے باطل کے خلاف کربلا کے میدان میں ایسے عظیم کردار اکٹھا کردیئے تھے جن کے دامن زندگی پر ایک ہلکا سا دھبہ بھی نہیں تھاجن کا خاموش کردار ان کی صداقت کی گواہی دے رہا تھا ــــــــــــ حسین نے کربلا کے میدان میں عاشور کے دن اپنے انہیں ساتھیوں کے ذریعے ایک ایسا عادلانہ سماج پیش کیا جس سماج کی تمنا ہر دل میں آج بھی موجود ہے اور اسی عادلانہ سماج کو برپا کرنے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے گئے تھے قرآن کا اعلان ہے کہ ہم نے پیغمبروں کو واضح نشانیوں اور کتاب ومیزان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ عادلانہ سماج قائم کریں۔حدید؍۲۵۔

امام حسینؑ کی اس مختصر جماعت میں مرد بھی ہیں عورتیں بھی، بچے بھی ہیں بوڑھے بھی، نوجوان بھی ہیں جوان بھی۔ آقابھی ہیں غلام بھی، بکریاں پالنے والے بھی ہیں اور معلم بھی، کسان بھی ہیں تجارت پیشہ بھی، باپ بھی ہیں بیٹے بھی۔ ماں بھی ہیں بیٹیاں بھی۔ بھائی بھی ہیں اور بہنیں بھی۔ دوست بھی ہیں رشتہ دار بھی۔ مگر سب کا کردار ایک، سب کا انداز ایک، سب صداقت کے ترجمان اور سب جانتے تھے حقوق کی ادائیگی کیسے کی جاتی ہے؟ رشتوں کا احترام کیسے ہوتا ہے؟ اسلامی سماج میں نماز کی کیا اہمیت ہے؟ قرآن کی کیا حیثیت ہے۔؟ماں باپ کے حقوق کیا ہیں ؟اولاد کی تربیت کا طریقہ کیا ہے۔؟باپ کی محبت کا تقاضا کیا ہے۔؟ماں کی مامتا کا کردارکیا ہے۔؟بھائی کی اخوت اور دوست کی رفاقت کا مطلب کیا ہے۔؟امام کے حکم کی پابندی کیسے کی جاتی ہے ؟ سوکھی زبان سے اذان کیسے دی جاتی ہے ؟اور زخمی پیشانی سے سجدہ کیسے کیا جاتا ہے؟ لہٰذا سب کے سب ظلم کے خلاف حق کے لئے اپنی قربانی پیش کرنے کو تیار ہیں۔

امام حسین علیہ السلام اپنے بچوں، عورتوں،گھروالوں، دوستوں اور چاہنے والوں کو لیکر کربلا کے میدان میں پہنچ گئیــــــــــ امام حسین کے ساتھ چھ مہینے کا بچہ علی اصغر بھی تھا اور ۸۰؍سالہ بوڑھا دوست حبیب ابن مظاہر وبریرہمدانی بھی، جوان علی اکبر بھی اور برابر کا بھائی عباس بھی۔ بہنیں بھی ہیںاور شریک حیات بھی، بیٹیاں بھی ہیں اور بیٹے بھیـــــــــــــــ

میرے بھائیو! اپنے سینے میں انسانیت کا درد رکھنے والو! ایک دوپہر میں ان پاکیزہ کردار انسانوں کو بے جرم وخطا قتل کردیا تھا اور افسوس کہ قتل کرنے والے کوئی اور نہ تھے بلکہ یزید کے ساتھ وہی لوگ تھے جو محمد مصطفی کا کلمہ پڑھتے تھیــــــــــ

مگر امام حسینؑ نے اس شان اوراس انداز سے قربانیاں پیش کی کہ کسی بھی قربانی میں خون کا ایک قطرہ بھی برباد نہ ہواـــــــــ روز عاشور جب امام حسین اپنے چاہنے والوں، بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں کی لاشیں مقتل سے اٹھا کر لارہے تھے یہ لاشیں نہیں اٹھارہے تھے بلکہ اس نظام اور سسٹم کی جڑوں کو اکھاڑ رہے تھے جس نے یزید بن معاویہ کو شریف انسانوں کے سر پر سوار کیاتھا۔ اور عاشور کا سورج کے ڈوبتے ہی اس نظام خلافت نے دم توڑ داــــــــــ کربلا سے پہلے یزید کو خلیفۃ المسلمین کہنے والوں میں کربلا کے بعد اسے خلیفہ کہنے کی ہمت نہ ہوئی اور نہ آج تک کوئی ہمت کرسکا۔ اور امام حسینؑ نے اپنی بے مثال قربانی پیش کرکے انسانیت کو بچالیا۔ روح عدالت کو زندگی دے دی۔ ظلم کے خلاف حق گو افراد پیدا کردیئے۔ انسانی رشتوں کی پاکیزگی کو حیات بخش دی۔

ــــــــــــاگر آج انسانیت باقی ہے تو یہ حسین کی اس عظیم قربانی کا صدقہ ہے۔ اور حق پرست محرم کا مہینہ آتے ہی اسی قربانی کی یاد مناتے ہیں۔ ہم ہر اس ظلم کے خلاف ہیں جو زمین کے کسی حصے میں کسی بھی انسان پر ہورہا ہو۔ زمین پر ہر بے گناہ کا ٹپکنے والا خون ہمارا خون ہے۔ ہم کربلا والے اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ اور کربلا اب تاریخ نہیں ایک فکر ہے۔ ایڈیالوجی ہے۔ جو ہر انسان کے دل ودماغ میں رچی بسی ہے۔ کربلا تاریخ نہیں ایک تحریک ہے جوپاکیزہ سماج کی حرکت ہے۔

کربلا دنیاکے نقشے میں کسی جگہ کا نام نہیں۔ اس لئے کہ کربلا نے پھیل کر ساری دنیا کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔ اب جغرافی نقشوں کے ذریعے کربلا کو محدود نہیں کیاجاسکتا اس لئے کہ ہر مومن اور ہر حق پرست انسان کا دل’’کربلا‘‘ ہے۔

ہر باشعور انسان کا دماغ کربلا ہے۔ ہر انقلاب کے سینے میں کربلا ڈھڑک رہی ہے اور ہر اعلان حق میں کربلا بول رہی ہیـــــــــــ

ہردن عاشور اور ہر زمین کربلا ہے۔

ہمارا سلام ہو حسینؑ پر اور اولاد حسینؑ پر ۔

ہمارا سلام ہو انصار حسینؑ پر اور ان کی شہادتوں پر۔

ہمارا سلام ہو ان بے غسل وکفن پاکیزہ لاشوں پر جو ظلم کے خلاف حق کی علامت ہیں ۔

ہمارا سلام ہو ان مقدس خون پر جس سے جبین انسانیت سرخروہے۔

کربلا کی اس حقیقت کو غیر مسلم دانشوروں نے بڑی گہرائی سے سمجھ کر کچھ اس انداز میں اظہار کیا ہے۔

ایک طرف پیغمبر اسلامؐ جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف حضرت علی بن ابی طالبؑ جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے۔ تیسری طرف حضرت فاطمۃ الزہراؑ جو خواتین کے طبقے میں نبی اکرمؐ کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لئے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں، اس نورانی ماحول میں حضرت حسینؑ کی پرورش ہوئی۔ حضور اکرمؐ اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے۔ سینہ پر بٹھاتے تھے، کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو، مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے۔ ایسا ہوا کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حضرت حسینؑ پشت مبارک پر آگئے تو سجدہ کو طول دیا، یہاں تک کہ وہ خود سے بخوشی پشت پر سے علیحدہ ہوگئے تو اس وقت سرسجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حضرت حسینؑ مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول اکرمؐ نے اپنا خطبہ موقوف کردیا، منبرسے اتر کر حضرت حسینؑ کو زمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ دیکھو! یہ حسین ہے، اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو۔(روزنامہ امت کراچی، حیدر آباد، اتوار۔۱۰ نومبر ۲۰۱۳ء؁)

فلسفۂ شہادت امام حسینؑ

حضرت امام حسینؒ کی اس قربانی اسلامی تاریخ میں اسلام کی سربلندی اور اعلیٰ ترین مقاصد کے حصول کے لئے جان کی بازی لگادینے کی وہ سنت قائم ہوئی جس نے تاریخ کے ہر دور میں شاہراہ مستقیم پر چلنے والے قافلوں کے لئے ایک روشن مثال قائم کی۔(مولانا عبدالنعیم پاکستان، اخبار شہر کراچی)

عبدالرحمن بن ابی غنم سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: حضرت حسن اور حسین دنیا میں میری خوشبوئیں ہیں۔ (صحیح بخاری، باب فضائل)

انگریزی مصنف’’ تھامس‘‘ کہتا ہے ۔(۱۹۱۸)

’’اگر حسین جیسے انصار اور ساتھی ہمارے پاس ہوں تو ہم ظلم کی دنیا کو ہلاکر رکھ دیں گے‘‘۔

’’مہاتما گاندھی‘‘

{۱}’’اگر آج اسلام زندہ ہے تو یہ تلوار اور شمشیر کے زور پر نہیں بلکہ یہ امام حسین ؑ کی قربانیوں اور شہادتوں کا نتیجہ ہے اور میں ہندوستان کی آزادی میں امام حسین ؑ کی ہی قربانیوں کو اور ان کے طریقہ کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہتا ہوں‘‘۔

{۲}’’ امام حسین ؑکی شہادت کا مقصد حکومت نہیں ورنہ وہ اپنی بیوی، بچوں اور بہنوں کو کربلا نہ لے جاتے‘‘۔

{۳} ’’امام حسین کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی‘‘۔

’’گین‘‘(۱۷۳۷۔۱۷۹۴) اپنے وقت کا یہ زبردست مورخ لکھتا ہے۔

’’امام حسینؑ کو کربلا کے میدان میں جس ظلم وجور کے ساتھ شہید کیا گیا وہ تاریخ انسانیت کے لئے ایک المیہ ہے‘‘۔

’’چارلس ڈکن‘‘

’’حسین ؑ نے دنیاوی خواہشات بجھانے کے لئے نہیں لڑے ورنہ ان کے ساتھ بہنیں ،بیویاں اور بچے نہ ہوتے،میں بس اتنا ہی سمجھتا ہوں کہ یہ اسلام ان کی مخلصانہ اس قربانیوں کی وجہ سے ہی قائم ہے‘‘۔

’’ڈاکٹر راجیندر پرساد‘‘

’’امام حسین کی قربانی کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تمام انسانوں کے لئے بھائی چارے کی مورثی ریاست ہے‘‘۔

’’سوامی شنکریاچاری‘‘

’’امام حسین ؑ کی قربانی نے اس اسلام کو زندہ رکھا ورنہ لوگوں نے اسلام کا نام لینا چھوڑ دیا ہوتا‘‘۔

’’رابندرناتھ ٹیگور‘‘

’’انصاف اور سچ کو زندہ رکھنے کے لئے فوج اور ہتھیاروں کے بجائے زندگیوں کو قربان کیا جا سکتا ہے جیسا کہ امام حسین ؑ نے کیا‘‘۔

’’پنڈت جواہر لال نہرو‘‘

’’امام حسین کی قربانی تمام گروہوں اور برادریوں کے لئے مشعل راہ ہے‘‘۔

’’ڈاکٹر رادھا کرشن‘‘

’’اگرچہ امام حسین ؑ نے ۱۴۰۰ ؍سال پہلے قربانی دی مگر ان کی لا زوال روح آج بھی لوگوں کے دل پر راج کر رہی ہے‘‘۔

{وآخر دعوانا عن الحمد للہ رب العالمین}